دہلی کے مالویہ نگر واقع ہوٹل میں لگی ہولناک آگ نے ایسا ہی ایک دردناک باب لکھ دیا ہے۔ ایک ایسا خاندان جو اپنے بیمار والد کی عیادت اور ان کے ساتھ کچھ وقت گزارنے کے لیے گروگرام سے دہلی آیا تھا، اب تقریباً مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے۔گروگرام کے رہنے والے چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ وویک اگروال اپنے والد کو دیکھنے دہلی پہنچے تھے۔ ان کے والد پھیپھڑوں کے شدید انفیکشن میں مبتلا ہیں اور میکس اسپتال میں داخل ہیں۔ خاندان کو امید تھی کہ بیماری سے لڑ رہے والد کو اپنوں کا ساتھ ملے گا، ان کی ہمت بڑھے اور شاید صحت میں بھی بہتری ہوگی۔ لیکن قسمت میں کچھ اور ہی لکھا تھا۔ جس خاندان نے اسپتال کے کمرے میں اپنے بزرگ والد کا ہاتھ تھامنے کا منصوبہ بنایا تھا، وہ کچھ گھنٹوں بعد آگ کی لپٹوں اور دھوئیں کے درمیان زندگی کی سب سے خوفناک لڑائی لڑ رہا تھا۔
رپورٹس کے مطابق وویک اگروال اپنی اہلیہ، 2 بیٹیوں اور بزرگ ماں کے ساتھ دہلی آئے تھے۔ اسپتال کے نزدیک رہنے کی سہولت کے لیے خاندان نے مالویہ نگر کے اس ہوٹل میں کمرہ لیا تھا جہاں بعد میں شدید آگ لگ گئی۔ اسی دوران وویک اگروال کے خالو، خالہ اور ایک دیگر رشتہ دار بھی بیمار والد کی عیادت کرنے دہلی پہنچے۔ انہوں نے بھی اسی ہوٹل میں ٹھہرنے کا فیصلہ کیا۔ کسی نے نہیں سوچا تھا کہ وہ فیصلہ ان کی زندگی کی آخری منزل بن جائے گی۔ رات معمول کے مطابق تھی، خاندان اگلے روز اسپتال جانے کی تیاری میں تھا۔ لیکن اچانک ہوٹل میں آگ بھڑک اٹھی۔ کچھ ہی منٹوں میں پوری عمارت دھوئیں اور آگ کی زد میں آ گئی۔ جو عمارت مسافروں کے لیے ٹھہرنے کی جگہ تھی وہ دیکھتے ہیں دیکھتے موت کا جال بن گئی۔
اس حادثے کی سب سے دردناک تصویر شاید وہ ہے جو میکس اسپتال کے ایک کمرے میں موجود ہے۔ وہاں ایک بزرگ والد زندگی اور موت کے درمیان جنگ لڑ رہے ہیں۔ انہیں شاید اب بھی اپنے بیٹے، بہو، پوتیوں اور خاندان کے باقی لوگوں کے آنے ک انتظار ہوگا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ جن قدموں کی آہٹ کا انتظار تھا، وہ ہمیشہ کے لیے تھم چکے ہیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق خاندادن کے زیادہ تر افراد جھلسنے اور دم گھٹنے کے سبب جان گنوا بیٹھے ہیں۔ اس حادثے کے بعد خاندان میں تقریباً کوئی ایسا نہیں بچا جو اس سانحے کی کہانی کو آگے بڑھا سکے۔







