مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم ہونے کے بجائے بڑھ رہی ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے تازہ دعوے نے صورتحال کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر دعویٰ کیا کہ ایران نے کل رات آبنائے ہرمز میں گشت کے دوران امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر کو مار گرایا۔
تاہم انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ہیلی کاپٹر میں سوار دونوں پائلٹ محفوظ اور ان میں سے کوئی بھی زخمی نہیں ہے۔ اس کے باوجود ٹرمپ نے سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ اس حملے کا ضرور جواب دے گا۔ اس بیان سے خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ متوقع ہے، کیونکہ ایران اور امریکا کے درمیان حالات بدستور کشیدہ ہیں۔
ٹرمپ کے اس دعوےکی ایران نے تردید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ امریکہ ان پر دوبارہ حملہ کرنے کا بہانہ تلاش کر رہا ہے۔ ایران کے نائب وزیر خارجہ ماجد روانچی نے غیر ملکی میڈیا الجزیرہ کو بتایا کہ ہرمز پر امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر پر حملے کے پیچھے تہران کا ہاتھ نہیں تھا۔ دریں اثناء ایران کے سرکاری میڈیا نے فوجی ذرائع کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ہرمز میں کوئی جارحانہ فضائی کارروائی نہیں کی گئی۔ اس میں مزید کہا گیا ہے کہ دشمن (امریکہ) امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر حادثے کی آڑ میں دوبارہ دشمنی کو ہوا دینے کی کوشش کر رہا ہے، جس کا کسی بھی صورت میں ’’فیصلہ کن جواب‘‘ دیا جائے گا۔
واضح رہےایک روز قبل صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو پر زور دیا تھا کہ وہ ایران کے میزائل حملوں کا جواب نہ دیں، انتباہ دیا تھا کہ اس سے تین ماہ سے جاری تنازع کے خاتمے کے لیے جاری امن مذاکرات متاثر ہو سکتے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اتوار کو ایران کی جانب سے اسرائیل پر میزائل داغے جانے کے بعد ٹرمپ نے نیتن یاہو سے بات کی اور انہیں تحمل سے کام لینے پر زور دیا۔ ٹرمپ نے ایران پر بھی زور دیا کہ وہ مذاکرات کی میز پر واپس آجائے۔
