نئی دہلی :ترنمول کانگریس کے 20 ارکان پارلیمنٹ پر مشتمل باغی گروپ نے نیشنلسٹ سٹیزنس پارٹی میں ضم ہونے کا فیصلہ کیا ہے جو تریپورہ سے تعلق رکھنے والی ایک غیر معروف بنگالی پارٹی ہے ۔ اسپیکر لوک سبھا اوم برلا سے ملاقات کے موقع پر باغی ارکان پارلیمنٹ نے یہ اعلا ن کیا اور اپنا ایک مکتوب انہیں حوالے کیا ۔ باغی گروپ کی لیڈر کاکولی گھوش دستی دار نے یہ بات بتائی ۔ انہوں نے کہا کہ اب یہ ارکان ‘ پارلیمنٹ میں علیحدہ گروپ میں بیٹھیں گے ۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس دو تہائی اکثریت ہے اور ہم این ڈی اے کا حصہ ہونگے اور وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں کام کریں گے ۔ اس اقدام سے ترنمول کانگریس کے بحران میں اضافہ ہوگا جس کے لوک سبھا میں 28 ارکان تھے ۔ اس گروپ کے نیشنلسٹ سٹیزنس پارٹی میں انضمام سے ایوان میں اپوزیشن ارکان کی تعداد میں کمی ہو جائے گی ۔ ذرائع نے کہا کہ علیحدہ بلاک بنانے کی صورت میں قانونی پیچیدگیاں پیدا ہوسکتی تھیں جن کو پیش نظر رکھتے ہوئے این سی پی آئی میں ضم ہونے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔
سابق چیف منسٹر ممتابنرجی کے قریبی رفیق سمجھے جانے والے سدیپ بندوپدھیائے نے کہا کہ ہم نیشنلسٹ سٹیزنس پارٹی کے ساتھ ضم ہونگے ۔ یہ ایک علاقائی جماعت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک سسٹم ہے ۔ جب آپ دو تہائی اکثریت کے ساتھ علیحدہ ہوتے ہیں تو آپ پہلے ہی دن پارٹی کے نام کا مطالبہ نہیں کرسکتے ۔ ہم جون میں مطالبہ کریں گے کہ ترنمول کا نام ہمیں دیا جائے چونکہ ہمارے پاس دو تہائی اکثریت ہے ۔ اس کے بعد عدالت فیصلہ کرے گی ۔ باغی ارکان پارلیمنٹ کے اس فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے سینئر ترنمول لیڈر مدن مترا نے کہا کہ باغیوں کے گروپ نے ترنمول کو دھوکہ دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ان تمام نے ترنمول کے نشان پر انتخاب لڑا تھا اور انہوں نے پارٹی اور ممتابنرجی کی قیادت کو مستحکم کرنے کی بات کہی تھی تاہم اب یہ لوگ اس وعدہ سے مکر گئے ہیں۔ یہ فریب ہے ۔







