نئی دہلی: مرکزی تعلیمی بورڈ کے چیئرمین اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (NIT)، جے پور کے سابق پروفیسر انجینئر محمد سلیم نے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی منڈی کے نصاب میں تناسخِ ارواح (Reincarnation)، قرب موت کے تجربات (Near-Death Experiences)، روح کےجسم سے باہر نکلنے کے تجربات (Out-of-Body Experiences) اور لطیف جسم (Subtle Body) جیسے موضوعات کی شمولیت پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ایک ممتاز سائنسی و تکنیکی ادارے کے درسی نصاب میں ایسے موضوعات شامل کرنے سے پہلے ان کی سائنسی بنیاد، تعلیمی افادیت اور آئینی قدروں کا علمی دیانت داری اور تحقیقی معیار کے ساتھ جائزہ لیا جانا چاہیے۔
پروفیسر انجینئر محمد سلیم نے کہا کہ قومی تعلیمی پالیسی 2020 طلبہ میں سائنسی مزاج، تنقیدی فکر اور شواہد پر مبنی استدلال کے فروغ پر زور دیتی ہے۔ اس تناظر میں یہ سوال کافی اہم ہو جاتا کہ آیا ان موضوعات کو بھی انہی سائنسی معیار پر پرکھا گیا ہے جو اعلیٰ سائنسی تعلیمی اداروں میں پڑھائے جانے والے دیگر مضامین کے لیے اختیار کئے جاتے ہیں۔
پروفیسر سلیم نے مزید کہا کہ اگران موضوعات کو شامل کرنے کا مقصد مذہبی یا فلسفیانہ روایات کا مطالعہ کرانا ہے تو انہیں ادیان کے تقابلی مطالعہ (Comparative Study of Religions) کے نصاب کے تحت پڑھایا جانا زیادہ مناسب ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی تدریس سے طلبہ کو اسلام، عیسائیت، یہودیت، ہندو مت، بدھ مت، جین مت، سکھ مت اور دیگر مذہبی اور افکار و روایات کا غیر جانب دارانہ اور تقابلی مطالعہ کرنے کا موقع ملے گا، جیسا کہ دنیا کی متعدد بڑی یونیورسٹیوں میں رائج ہے۔
انہوں نے ان میڈیا رپورٹس پر بھی تشویش ظاہر کی جس کے مطابق بعض مذہبی سرگرمیوں، بشمول بھگود گیتا کا اجتماعی پاٹھ کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ اطلاعات درست ہیں تو متعلقہ ادارے کو اس بارے میں اپنی وضاحت جاری کرنی چاہیے۔
پروفیسر سلیم نے آخر میں اس بات پر زور دیا کہ آئی آئی ٹیز جیسے قومی ادارے ملک کی سائنسی اور علمی روایت کے نمائندہ ہیں، لہٰذا نصاب ترتریب دیتے وقت علمی دیانت، سائنسی مزاج، آئینی اقدار اور بھارت کے مذہبی و ثقافتی تنوع کو ہر حال میں ملحوظ رکھا جانا چاہیے۔







