نئی دہلی: جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر ایس امین الحسن نے امریکی کانگریس کی جانب سے ایسے ممالک پر، جو روس سے تیل اور گیس خریدتے ہیں، جن میں ہندوستان بھی شامل ہے، صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو 100 فیصد تک ٹیرف عائد کرنے کا اختیار دینے سے متعلق قانون سازی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
میڈیا کے لیے جاری اپنے ایک بیان میں جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر نے کہا کہ جماعت اسلامی ہند ’لنڈسی او گراہم سینکشننگ رشیا اینڈ ایران ایکٹ 2026‘ پر گہری تشویش کا اظہار کرتی ہے۔ یہ قانون روس-یوکرین جنگ کے سلسلے میں امریکی ردعمل کو سفارتی اقدامات سے آگے بڑھاتے ہوئے سخت اور تعزیری نوعیت کے اقتصادی اقدامات تک لے جاتا ہے۔ یہ حکمت عملی اخلاقی اور اقتصادی، دونوں اعتبار سے غلط ہے۔
انہوں نے کہا کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ ٹیرف درآمد کنندگان پر عائد کیا جاتا ہے، لیکن اس کی لاگت بالآخر امریکی صارفین، ہندوستانی برآمد کنندگان، مزدوروں اور چھوٹے کاروباروں تک منتقل ہوتی ہے۔ 2025 میں امریکہ کو ہندوستان کی برآمدات تقریباً 104 ارب ڈالر کی تھیں۔ انہوں نے سوال اٹھیا کہ عام ہندوستانی مزدوروں اور ان کے خاندانوں کو ایسے جغرافیائی سیاسی تنازعے کی قیمت کیوں چکانی چاہیے جس میں ان کا کوئی کردار نہیں ہے؟
انہوں نے کہا کہ توانائی کی موجودہ سپلائی میں اچانک خلل پڑنے سے نقل و حمل، صنعت، اشیائے خوردونوش کی قیمتوں اور گھریلو بجٹ پرگہرا اثر پڑے گا۔ دوم، اگر امریکی دباؤ کے نتیجے میں ہندوستان روس سے تیل کی خریداری میں نمایاں کمی بھی کر دیتا ہے تو اسے خام تیل کی زیادہ مقدار دوسرے ذرائع سے حاصل کرنا ہوگی۔ اس سے مشرق وسطیٰ، افریقہ یا دیگر پیدا کنندگان سے تیل کی فراہمی کے لیے مسابقت بڑھ سکتی ہے۔ اگر عالمی تیل کی منڈی میں رسد اتنی کم ہو گئی کہ مارکیٹ پر دباؤ بڑھے تو بین الاقوامی تیل کی قیمتوں میں اضافہ روس کی آمدنی پر دباؤ ڈالنے کے مطلوبہ اثر کو کسی حد تک زائل کر سکتا ہے۔
ایس امین الحسن نے مزید کہا کہ ہندوستان کے 1.4 ارب عوام کے لیے سستی اور قابلِ اعتماد توانائی کو یقینی بنانا ایک جائز قومی مفاد ہے۔ تاہم، توانائی کے تحفظ کا اصول محض توانائی کی فراہمی یقینی بنانے تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اس بات کو بھی یقینی بنانا چاہیے کہ سستی توانائی عام آدمی تک پہنچے۔انہوں نے کہا کہ درآمد شدہ تیل پر ہندوستان کا بھاری انحصار ایک بنیادی کمزوری ہے، نہ کہ عارضی مسئلہ۔ اس لیے طویل مدتی حل صرف یہ نہیں ہو سکتا کہ کسی ایسے دوسرے ملک کو تلاش کر لیا جائے جو سستا خام تیل فروخت کرنے پر آمادہ ہو، کیونکہ اس طرح ایک انحصار کی جگہ دوسرا انحصار لے لے گا۔ اس مسئلے کا حل یہ ہے کہ عوامی نقل و حمل اور ریلوے، توانائی کے مؤثر استعمال، برقی نقل و حرکت، غیرمرکزی بجلی پیدا کرنے کے نظام اور ملک میں مینوفیکچرنگ کے فروغ میں سنجیدہ سرمایہ کاری کے ذریعے ہندوستانی معیشت کا درآمد شدہ فوسل فیول پر انحصار کم کیا جائے۔ توانائی کی یہ بڑی تبدیلی نہ صرف ماحولیاتی تحفظ کے لیے مفید ہوگی بلکہ قومی سلامتی اور معاشی خودمختاری کو بھی مضبوط کرے گی۔
جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر نے ہندوستانی حکومت پر زور دیا کہ وہ کسی ایک جغرافیائی سیاسی بلاک یا توانائی کے کسی ایک ذریعے پر حد سے زیادہ انحصار کرنے کے بجائے حقیقی اسٹریٹجک خودمختاری کی پالیسی اختیار کرے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کو اپنی توانائی اور تجارتی شراکت داریوں میں تنوع پیدا کرنا چاہیے اور ساتھ ہی قابلِ تجدید توانائی، عوامی نقل و حمل، توانائی کے مؤثر استعمال اور دیگر ایسے اقدامات میں سرمایہ کاری تیز کرنی چاہیے جو درآمد شدہ فوسل فیول پر اس کا انحصار کم کر سکیں۔ہندوستان کو کسی مخصوص جغرافیائی سیاسی خانے میں بند ہونے اور اپنی اسٹریٹجک خودمختاری کو کمزور کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ ہماری خارجہ اور اقتصادی پالیسیاں امن کے تحفظ، معاشی سلامتی کی فراہمی اور عام شہریوں کی فلاح و بہبود کو پیش نظر رکھ کر تشکیل دی جانی چاہئیں۔
ایس امین الحسن زور دے کر کہا کہ ہم ہندوستان اور امریکہ کے درمیان مسلسل سفارتی مذاکرات کا مطالبہ کرتے ہیں تاکہ اس تنازعے کو ایک وسیع تر اقتصادی تصادم میں تبدیل ہونے سے روکا جا سکے۔ حکومتِ ہند کو اپنے تجارتی اور اقتصادی مفادات کا تحفظ کرنا چاہیے اور اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ اس کے فیصلے عوام کی فلاح و بہبود اور ملک کے طویل مدتی مفادات کی بنیاد پر کیے جائیں۔







