بنگلہ دیش میں حالیہ مہینوں کے دوران دریاؤں سے مسلسل لاشیں برآمد ہو رہی ہیں، جس نے نہ صرف مقامی انتظامیہ بلکہ عوام میں بھی خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔ پولیس کے مطابق، بری گنگا، شیت لاکشیہ اور میگھنا ندیوں سے اب تک تقریباً 750 لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔ کئی لاشیں ایسی ہیں جن کی نہ شناخت ہو سکی ہے اور نہ ہی ان کے متعلق کسی قسم کی معلومات فراہم کی جا سکی ہیں۔
ایک مقامی اخبار کی رپورٹ کے مطابق، بیشتر لاشیں بیگ میں بند کر کے ندیوں میں پھینکی گئی تھیں، جبکہ بعض کے گلے میں اینٹیں اور پتھر باندھے گئے تھے تاکہ وہ سطح پر نہ آ سکیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ کچھ لاشوں کی شناخت ممکن ہوئی ہے، لیکن کئی لاشوں کو بغیر شناخت کے ہی دفنا دیا گیا ہے۔ ان میں سے زیادہ تر لاشیں لاپتہ افراد کی بتائی جا رہی ہیں، جن کے اغوا اور قتل کے وقت کے بارے میں کوئی ریکارڈ دستیاب نہیں ہے۔
پولیس کے مطابق، روزانہ 2 سے 3 لاشیں ندیوں سے برآمد ہو رہی ہیں، جبکہ عوامی لیگ کے دور حکومت میں یہ تعداد روزانہ 5 سے بھی زائد تھی۔ ان واقعات کے پیچھے دو تھیوریاں گردش کر رہی ہیں۔ پہلی کے مطابق، مجرم گروہ اغوا کے بعد افراد کو قتل کر کے لاشیں دریاؤں میں پھینک دیتے ہیں۔ سی جی ایس کی رپورٹ کے مطابق، ہر ماہ اوسطاً 87 افراد اغوا ہو رہے ہیں، جو 2024 کے مقابلے میں 61 فیصد زیادہ ہے۔
دوسری تھیوری یہ ہے کہ شیخ حسینہ کے دور حکومت میں ہونے والی جبری گمشدگیوں کا نتیجہ ہیں۔ ہیومن رائٹس کے مطابق، اس دور میں تقریباً 700 افراد لاپتہ ہوئے تھے، جن کا انجام اب تک ایک معمہ ہے۔
read more….qaumiawaz.com






