وینزویلا پرامریکی حملے کے بعد ملک میں اُٹھے سیاسی طوفان کے دوران ملک کی سپریم کوٹ کے آئینی چیمبر نے نائب صدر ڈیلسی روڈریگز کو عبوری صدر کی ذمہ داری سنبھالنے کا حکم دیا ہے۔ یہ فیصلہ صدر نکولس مادورو کی عدم موجودگی کے مد نظر لیا گیا ہے جنہیں ہفتے کے روزعلی الصبح امریکی فورسیز کے ذریعہ کئے گئے آپریشن میں گرفتار کرکے نیویارک لے جایا گیا ہے۔
عدالت کے حکم میں کہا گیا ہے کہ ڈیلسی روڈریگز بولیویرین جمہوریہ وینزویلا کے صدر کا عہدہ سنبھالیں گی تاکہ انتظامی تسلسل اور قوم کے جامع دفاع کو یقینی بنایا جا سکے۔ عدالت اس معاملے پر مزید فوڑ وخوض کرے گی تاکہ ریاست کا استحکام، حکومت چلانے اور صدر کی جبراً عدم موجودگی کی صورت میں قومی خود مختاری کی حفاظت یقینی کرنے کے لیے نافذ قانونی ڈھانچے کا تعین کیا جاسکے۔
سپریم کورٹ نے نائب صدر کے فرائض انجام دینے والی ڈیلسی روڈریگز کو عبوری صدر مقرر کرنے کا حکم دے کر ملک کے عوام کو مطمئن کرنے کی کوشش کی ہے۔ وینزویلا کی نائب صدر ڈیلسی روڈریگز ملک میں حالات معمول پر آنے تک عہدۂ صدارت سنبھالیں گی۔ مادورو نے وینزویلا حکومت کی حمایت کرنے پر ڈیلسی روڈریگز کو ’شیرنی‘ قرار دیا تھا۔
وینزویلا کے صدر عہدے کے لیے ڈیلسی روڈریگز امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی بھی پہلی پسند ہیں۔ امریکی صدر ٹرمپ نے نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد فلوریڈا میں اپنے گھر مار-اے-لاگو میں پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ نائب صدر ڈیلسی روڈریگوز وینزویلا کی صدر کا عہدہ سنبھالیں گی۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ مستقبل قریب کے لیے وینزویلا کا انتظام کرے گا اور ڈیلسی روڈریگز نے اس ملک کو دوبارہ عظیم بنانے کے لیے جو بھی ضروری ہے، کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔







