کیا آپ جانتے ہیں کہ ماں کا دودھ ’زہریلا‘ بھی ہو سکتا ہے۔ دراصل ایک رپورٹ سامنے آئی ہے جس نے انکشاف کیا ہے کہ ماں کے دودھ میں اب زہر گھل چکا ہے! لکھنؤ کی ’کنگ جارج میڈیکل یونیورسٹی‘ (کے جی ایم یو) کی ایک حیرت انگیز اسٹڈی میں دودھ پلانے والی 100 خواتین کے دودھ کے نمونوں کی جانچ کی گئی، جس میں کئی زہریلے کیمیکلز اور بھاری دھاتیں موجود ہونے کا پتہ چلا۔ رپورٹ کے مطابق دودھ پلانے والی خواتین کے دودھ کے نمونوں میں افلاٹاکسن ایم 1، اوکراٹاکسن سمیت کئی زہریلے مادے اور کچھ بھاری دھاتیں پائی گئی ہیں۔ یہ تحقیق ستمبر میں ’جرنل آف فوڈ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی‘ میں شائع ہوئی ہے۔
کے جی ایم یو کے انسٹی ٹیوٹ آف ٹاکسیکولوجی میں کی گئی جانچ کے دوران 73 فیصد نمونوں میں افلاٹاکسن ایم 1 اور 96 فیصد نمونوں میں اوکراٹاکسن پایا گیا۔ اس کے علاوہ پھپھوند سے بننے والے کچھ دیگر کیمیکلز، زیئرالینون، الفا زیئرالینول اور بیٹا زیئرالینول بھی نمونوں میں پائے گئے۔ کرومیم، مینگنیز، آرسینک، کیڈمیم اور سیسہ بھی دودھ کے نمونوں میں موجود تھے۔ اس تحقیق کو پیش نظر رکھتے ہوئے ماہرین نے کیڑے مار ادویات کے ضرورت سے زیادہ استعمال پر قابو پانے کی ضرورت بتائی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فصلوں میں جراثیم کش کا استعمال ماں کے دودھ میں زہر گھلنے کی وجہ ہو سکتی ہے۔
بہرحال، تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ دودھ کے نمونوں میں بھاری دھاتوں کی موجودگی انتہائی فکر انگیز ہے۔ دودھ کے نمونوں میں 49 فیصد مینگنیز، 42 فیصد آرسینک، 34 فیصد کیڈمیم، 26 فیصد کرومیم اور 12 فیصد سیسہ ہونے کی بات سامنے آئی ہے۔ تحقیق کے مطابق یہ زہریلے مادے خوراک اور ماحول کے ذریعے ماں کے جسم میں پہنچ کر ماں کے دودھ کے ذریعے نوزائیدہ بچے تک منتقل ہو سکتے ہیں۔ اس سے بچے کے گردوں، جگر اور دیگر اعضا کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ فصلوں میں جراثیم کش ادویات کے ضرورت سے زیادہ استعمال کی وجہ سے یہ کیمیکلز غذائی زنجیر میں داخل ہو رہے ہیں۔ اس پر قابو پانے کے لیے ضابطے اور رہنما ہدایات بنانے کی ضرورت ہے۔







