غزہ پر اسرائیل کے وحشیانہ حملے مسلسل شدت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ جمعہ کو تازہ کارروائی میں کم از کم 50 فلسطینی جاں بحق ہو گئے۔ اسرائیلی فوج نے غزہ شہر پر اپنے حملے مزید تیز کر دیے ہیں۔ تاہم، غزہ پٹی کے سب سے بڑے اور گنجان آباد شہر غزہ سٹی کے لاکھوں مکینوں نے اپنے گھروں کو چھوڑنے اور اسرائیلی فوج کے بتائے گئے نام نہاد محفوظ مقامات پر جانے سے انکار کر دیا ہے۔ یہ شہر حماس کا مضبوط گڑھ مانا جاتا ہے اور اسرائیلی فوج مسلسل یہاں بمباری اور گولہ باری کر رہی ہے۔ خوراک اور دیگر اشیائے ضرورت کی سپلائی مکمل طور پر رکی ہوئی ہے، جس سے شہری شدید فاقہ کشی اور انسانی بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔
اسرائیلی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ غزہ سٹی پر قبضہ کرنے تک اپنی کارروائیاں جاری رکھے گی۔ فوج کو شبہ ہے کہ حماس کے زیر اثر اس شہر میں اسرائیلی یرغمالی قید ہیں۔ گزشتہ 23 مہینوں سے اسرائیلی حملوں کے باوجود فوج غزہ سٹی پر مکمل قبضہ نہیں کر سکی۔ مضافاتی علاقوں کو خالی کرا لیا گیا ہے مگر گنجان آبادی اور شہریوں کی مزاحمت کی وجہ سے شہر کے اندر زمینی کارروائی تیز نہیں ہو پا رہی۔ مقامی آبادی نے شہر چھوڑنے سے انکار کرتے ہوئے اسرائیلی ظلم کے خلاف ڈٹے رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اسرائیلی فوج فی الحال فضائی حملوں پر انحصار کر رہی ہے اور شہر کی بلند عمارتوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ فوج کا دعویٰ ہے کہ حالیہ دنوں میں 500 سے زیادہ مقامات پر حملے کیے گئے ہیں۔ اسرائیل کی ریزرو فورسز نے بھی اعلان کیا ہے کہ غزہ پر مکمل قبضہ ہونے تک کارروائی جاری رہے گی۔ دوسری طرف یروشلم میں بھی پرتشدد واقعہ پیش آیا، جہاں ایک ہوٹل کے باہر تیز دھار ہتھیار سے حملہ کر کے دو افراد کو زخمی کر دیا گیا۔ ان میں سے 50 سالہ شخص کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے جبکہ 25 سالہ زخمی زیر علاج ہے۔
read more…….qaumiawaz.com






