اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو کا خطاب جمعہ کے روز ایک غیر معمولی منظر کا باعث بنا۔ جیسے ہی نتن یاہو اسٹیج پر آئے، متعدد عرب، مسلم، افریقی اور بعض یورپی ممالک کے نمائندے اجتماعی طور پر واک آؤٹ کرتے ہوئے باہر نکل گئے، جس کے نتیجے میں ہال تقریباً خالی ہو گیا۔
امریکی وفد اپنی نشستوں پر موجود رہا اور کچھ نمائندوں نے تالیاں بجا کر نتن یاہو کا خیر مقدم بھی کیا۔ خطاب کے دوران ہال میں شور اور مکس ردعمل دیکھا گیا لیکن نتن یاہو نے اپنی تقریر جاری رکھی اور زور دیا کہ اسرائیل کو غزہ میں حماس کے خلاف کارروائی مکمل کرنی ہوگی۔
نتن یاہو نے اپنی تقریر میں ایک نقشہ اور کیو آر کوڈ کا استعمال بھی کیا۔ انہوں نے اسکرین پر نقشہ دکھاتے ہوئے بڑے نشانات لگائے اور اپنے سوٹ کی جیکٹ پر کاغذی کیو آر کوڈ چسپاں کیا، جسے سامعین کے سامنے دکھایا۔ اس کے علاوہ، انہوں نے ایک بورڈ اٹھایا جس پر ملٹی پل چوائس سوالات درج تھے اور انہیں سامعین کے سامنے پڑھ کر سنایا۔
خطاب سے قبل، نیتن یاہو نے اسرائیلی فوج کو ہدایت دی کہ غزہ کی پٹی کے اطراف میں لاؤڈ اسپیکر لگائے جائیں تاکہ ان کا خطاب فلسطینی عوام تک براہِ راست پہنچ سکے۔ اسرائیلی خفیہ اداروں نے بھی فونز کے ذریعے تقریر کو براہِ راست نشر کیا۔






