اترپردیش کے وارانسی ضلع کی مشہور دال منڈی توسیعی منصوبہ کے تحت تحویل کی زد میں آرہی نصف درجن مساجد کے معاملے میں انتظامیہ ، مسجد کمیٹیوں اور متولیوں کے درمیان ایک بار پھر اہم میٹنگ ہوئی ہے۔ تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہنے والی اس میٹنگ میں مساجد کی منتقلی اور باہمی رضا مندی سے حل تلاش کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ کلکٹریٹ کمپلیکس واقع رائفل کلب میں منعقدہ میٹنگ کی صدارت اے ڈی ایم پروٹوکول ونے کمار سنگھ نے کی۔
انتظامیہ اور محکمہ تعمیرات عامہ کی جانب سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا ہے تاہم ذرائع کے مطابق مسجد کمیٹیوں اور متولیوں کو اپنے فیصلے سے آگاہ کرنے کے لیے ایک ہفتے کا وقت دیا گیا ہے۔ محکمہ تعمیرات عامہ (پی ڈبلیو ڈی) نے پہلے ہی مسجد کمیٹیوں کے سامنے 2 تجاویز رکھی ہیں۔ وہیں توسیعی منصوبے کے تحت انہدامی کارروائی بھی لگاتار جاری ہے۔ ہفتہ کو وارانسی ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے 14 غیر قانونی عمارتوں کو منہدم کیا۔
دال منڈی کے توسیعی منصوبے سے متاثر ہونے والی بڑی مساجد میں لنگڑا حافظ مسجد، کریم اللہ بیگ مسجد، سنگ مرمر والی مسجد، نثاران مسجد، علی رضا مسجد اور رنگیلے شاہ مسجد شامل ہیں۔ پی ڈبلیو ڈی کے ایگزیکٹیو انجینئر کے کے سنگھ نے بتایا کہ گزشتہ 7 مہینوں میں 126 عمارتوں کو منہدم کرنے کی کارروائی انجام دی گئی ہے۔ متاثرہ عمارتوں کے مالکان کو 51 کروڑ روپے کا معاوضہ بھی ادا کیا جا چکا ہے۔ فی الحال صرف 55 عمارتیں اور 6 مساجد ہی تحویل کے عمل میں باقی بچی ہیں۔
220 کروڑ روپئے کی لاگت والے دال منڈی توسیعی منصوبے کے تحت نئی سڑک سے چوک پولیس اسٹیشن تک تقریباً 650 میٹر لمبی تنگ گلی کو 17.4 میٹر (تقریباً 57 فٹ) چوڑا کیا جا رہا ہے۔ انتظامیہ کا خیال ہے کہ اس منصوبے کے مکمل ہونے کے بعد علاقے میں ٹریفک اور شہری سہولیات میں نمایاں بہتری آئے گی۔
