سعودی عرب اور حوثی باغیوں کے درمیان جاری تصادم اب خطرناک موڑ پر پہنچ گیا ہے۔ منگل کی دیر رات سعودی عرب کے مشرقی شہر ظہران میں دنیا کی سب سے بڑی تیل کمپنی ’آرامکو‘ کے ایڈمنسٹریٹو احاطہ کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنایا گیا۔ سعودی سرکاری خبر رساں ایجنسی ایس پی اے نے بدھ کو وزارت توانائی کے ایک افسر کے حوالہ سے بتایا کہ حملہ کے بعد عمارت میں آگ لگ گئی، تاہم کسی کے ہلاک یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔
خبر رساں ایجنسی رائٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق کمپنی سے وابستہ ذرائع نے بتایا کہ میزائل حملہ میں دفتر کی عمارت کی اوپری 3 منزلوں کو نقصان پہنچا ہے۔ مذکورہ ذرائع اور اس معاملے سے واقف 2 دیگر افراد نے بھی عمارت میں آگ لگنے کی اطلاع دی۔ حالانکہ دستیاب رپورٹ میں حملہ کی ذمہ داری کے حوالے سے آزادانہ تصدیق نہیں کی گئی ہے۔ آرامکو کا یہ احاطہ کمپنی کے ایک اہم عملیاتی مرکز کے طور پر کام کرتا ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی تیل کمپنیوں میں شامل آرامکو سعودی عرب کی معیشت کی ایک اہم بنیاد ہے۔ اس کے عملیاتی نیٹورک میں تیل کے کنویں، پائپ لائنیں، ریفائنریاں اور برآمدی ٹرمینل شامل ہیں۔
سعودی قیادت والے اتحاد نے بتایا کہ ظہران کے اوپر روکے گئے ایک میزائل کے ٹکڑے رہائشی علاقے میں گرے۔ تاہم، اس سے ہونے والے نقصان کے بارے میں تفصیلی معلومات نہیں دی گئیں۔ حکام نے ریاض اور ملک کے جنوبی حصہ میں بھی میزائلوں اور ڈرون کو روک کر تباہ کرنے کی اطلاع دی۔ اس سے قبل منگل کو سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کی صدارت میں ہونے والے کابینہ کے اجلاس میں حوثیوں کو بار بار حملے کرنے کے سنگین نتائج بھگتنے کی وارننگ دی گئی تھی۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک ہفتہ سے حوثی باغی سعودی عرب کے اہم ٹھکانوں پر میزائل اور ڈرون حملے کر رہے ہیں۔ ان میں راجدھانی ریاض کا ہوائی اڈہ بھی شامل ہے۔ ہفتہ کے روز ریاض کے ہوائی اڈہ پر ہونے والے بیلسٹک میزائل حملے میں 13 افراد کی موت کی اطلاع دی گئی تھی۔ رپورٹ میں اسے گزشتہ ایک دہائی کے دوران سعودی عرب پر ہونے والا سب سے ہلاکت خیز حملہ قرار دیا گیا ہے۔ مسلسل حملوں کے باعث ملک میں پروازوں کی خدمات بھی متاثر ہوئیں۔ یہ واقعات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب سعودی عرب میں توانائی کے ایک بڑے اجلاس کا انعقاد ہو رہا تھا۔
ظہران پر حملہ سے قبل حوثی ترجمان یحییٰ سریع نے یمن کی راجدھانی صنعا پر سعودی قیادت والے اتحاد کے حملوں کے جواب میں ’سخت اور دردناک‘ کارروائی کرنے کی وارننگ دی تھی۔ ان کے مطابق ممکنہ نشانہ بننے والے ٹھکانوں میں ظہران میں واقع آرامکو کا صدر دفتر اور ریاض کی ایک تیل ریفائنری شامل تھے۔ حوثیوں نے سعودی عرب میں تیل کے شعبے سے وابستہ ملازمین کو بھی ان ٹھکانوں سے دور رہنے کی وارننگ دی تھی جنہیں وہ ممکنہ ہدف سمجھتے ہیں۔







