تہران : ایران کی مشترکہ فوجی کمان خاتم الانبیاء سنٹرل ہیڈ کوارٹرس نے آج کہا کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کردیا جائے گا ۔ سنٹرل کمان نے کہا کہ اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے جنگ بندی معاہدہ کی خلاف ورزیاں کی جا رہی ہیں۔ ایران کے مہر خبر رساں ادارے نے یہ بات بتائی ۔ کہا گیا ہے کہ جو وعدے کئے گئے تھے ان سے انحراف پر پہلے قدم کے طور پر آبنائے ہرمز کو بند کیا جا رہا ہے ۔ ایران نے خبردار کیا کہ اگر جارحیت کا سلسلہ جاری رہا تو مزید اقدامات کئے جائیں گے ۔ ایران کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کا معاہدہ ہونے کے باوجود اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے جنگ بندی معاہدہ کی خلاف ورزیاں کی جا رہی ہیں اور جارحیت کا سلسلہ جاری رکھا گیا ہے ۔ اس پر ایران نے اپنے پہلے رد عمل کے طور پر آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔
ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ خلاف ورزیاں جاری رہیں تو ایران کی جانب سے مزید اقدامات کئے جائیں گے ۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جو معاہدہ طئے پایا تھا اس کے بعد 19 جون جمعہ کو دونوں ملکوں کے وفود کے مابین سوئیٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں بات چیت ہونے والی تھی تاہم ایران نے اس بات چیت کو ملتوی کردیا ہے ۔ ایران کا کہنا ہے کہ آئندہ دنوں میں دونوں ملکوں کے مابین بات چیت ہوسکتی ہے ۔ بات چیت کیلئے امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس جنیوا جانے والے تھے تاہم ان کے اس دورہ کو بھی ملتوی کردیا گیا ہے ۔
جے ڈی وینس نے کہا کہ ایران کے ساتھ بات چیت کی تجویز برقرار ہے ۔ وینس نے ایک ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ انہیں امید ہے کہ آئندہ دو دن میں وہ شائد جنیوا جائیں گے تاکہ ایران کے ساتھ بات چیت میں حصہ لے سکیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ سفارتی پروٹوکولس کے پیش نطر یہ کچھ پیچیدہ صورتحال ہوتی ہے تاہم انہیں بات چیت کی امید ضرور ہے ۔ واضح رہے کہ لبنان کے حکام نے کل بتایا تھا کہ اسرائیل کی جانب سے جنوبی لبنان پر کئے گئے فضائی حملوں میں جملہ 47 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ اسرائیل نے بھی کہا تھا کہ حزب اللہ کے حملوں میں اس کے چار سپاہی ہلاک ہوگئے ہیں۔ امریکہ نے تاہم جمعہ کی شام بتایا تھا کہ اسرائیل اور حزب اللہ نے بھی جنگ بندی سے اتفاق کرلیا ہے ۔ اسرائیلی حملوں کی وجہ سے امریکہ اور ایران کے درمیان طئے پایا معاہدہ اندیشوں کا شکار ہوگیا تھا اور ایران نے اب آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا اعلان کیا ہے ۔
