میرٹھ کے مشہور ’نیلا ڈرم قتل‘ کی قصوروار مسکان رستوگی اور اپنے شوہر کے قتل کو سانپ کے ڈسنے کی شکل دینے کے معاملے میں قصوروار رویتا کو پھانسی کی سزا سنائے جانے کے بعد دونوں معاملے ایک بار پھر سرخیوں میں ہیں۔ ’آل انڈیا ہندو مہاسبھا‘ کی آگرہ ضلع صدر میرا راٹھور نے دونوں خواتین کو پھانسی دینے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ انہوں نے متھرا کے ضلع مجسٹریٹ کو ایک عرضی دے کر جلاد کی ذمہ داری نبھانے کی اجازت مانگی ہے۔میرٹھ کے مشہور ’نیلا ڈرم قتل‘ کی قصوروار مسکان رستوگی اور اپنے شوہر کے قتل کو سانپ کے ڈسنے کی شکل دینے کے معاملے میں قصوروار رویتا کو پھانسی کی سزا سنائے جانے کے بعد دونوں معاملے ایک بار پھر سرخیوں میں ہیں۔ ’آل انڈیا ہندو مہاسبھا‘ کی آگرہ ضلع صدر میرا راٹھور نے دونوں خواتین کو پھانسی دینے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ انہوں نے متھرا کے ضلع مجسٹریٹ کو ایک عرضی دے کر جلاد کی ذمہ داری نبھانے کی اجازت مانگی ہے۔
میرا راٹھور کا کہنا ہے کہ اگر انتظامیہ حکم دیتی ہے تو وہ یہ کام مفت کریں گی۔ ساتھ ہی انہوں نے پھانسی سے قبل دونوں خواتین کو گنگا جل سے پاک کرنے کی بات بھی کہی ہے۔ میرٹھ کے برہمپوری علاقہ میں سوربھ راجپوت قتل معاملہ ملک بھر میں سرخیوں میں تھا۔ سوربھ کی اہلیہ مسکان رستوگی اور اس کے ساتھی ساحل شکلا کو اس معاملے میں قصورار ٹھہرایا گیا۔ عدالت نے 14 اکتوبر 2026 کو دونوں کو موت کی سزا سنائی تھی۔ اس معاملے میں سوربھ کی لاش کو نیلے ڈرم میں چھپانے کا معاملہ سامنے آنے کے بعد لوگوں میں کافی غم و غصہ تھا۔







