دہشت گردی کی کمر توڑنے کے لیے مرکزی حکومت نے بڑا قدم اٹھایا ہے۔ حکومت نے ہفتہ (4 جولائی) کو پاکستان واقع جیشِ محمد اور لشکرِ طیبہ سے وابستہ 23 افراد کو آفیشیل طور پر دہشت گرد قرار دے دیا ہے۔ وزارت داخلہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ یہ تمام جموں و کشمیر میں دہشت گردوں کی بھرتی، دراندازی، ٹریننگ، ڈرون کے ذریعہ اسلحوں کی سپلائی اور حملوں کی سازش میں شامل تھے۔ حکومت کی جانب سے یہ قدم ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب سیکورٹی ایجنسیاں سرحد پار سے چلنے والے دہشت گردانہ نیٹورک، ڈرون کے ذریعہ ہتھیاروں کی سپلائی اور سوشل میڈیا کے ذریعہ انتہا پسندانہ بھرتی کی سرگرمیوں پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق حکومت نے نوٹیفکیشن جاری کر کے 23 دہشت گردوں کو غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون یعنی ’یو اے پی اے‘ کے تحت دہشت گرد قرار دیا ہے۔ ان تمام 23 ناموں کو ’یو اے پی اے‘ کے چوتھے شیڈول میں شامل کیا گیا ہے۔ ان میں سے زیادہ تر دہشت گرد جیش محمد اور لشکر طیبہ سے وابستہ ہیں اور پاکستان یا پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر (پی او کے) میں رہ رہے ہیں۔
ان 23 ناموں میں 3 ایسے دہشت گرد ہیں جن کا تعلق 2016 میں ناگروٹا میں آرمی کیمپ پر ہوئے حملے سے بتایا گیا ہے اور 2 کا تعلق 2018 میں سنجواں ملٹری اسٹیشن پر ہوئے حملے سے ہے۔ 52 سالہ مفتی محمد اصغر خان عرف ابو سعد، جو ’پی او کے‘ کے عباس پور کا رہنے والا ہے، کو جیشِ محمد کا لانچنگ کمانڈر بتایا گیا ہے۔ نوٹیفکیشن میں اسے 29 نومبر 2016 کو ناگروٹا میں آرمی کیمپ پر حملے کا ایک اہم سازش کار کہا گیا ہے۔ 56 سالہ حافظ عبدالشکور پر بھی ناگروٹا حملے میں ملوث ہونے اور جیش کے لیے جموں و کشمیر میں دہشت گردوں کو لانچ کرنے کا الزام ہے۔ 47 سالہ عبداللہ جہادی کا نام بھی ناگروٹا حملے سے جڑا ہے۔
