نئی دہلی، جمعیۃ علماء ہند کی مجلس عاملہ کے ارکان نے ملک کے موجودہ حالات پر ایک متفقہ بیان جاری کیا ۔ عاملہ کا یہ اجلاس صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا محمود اسعد مدنی کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں ملک کی موجودہ صورتِحال سے متعلق تجویز کا مسودہ پیش کیا گیا، جس پر غور و خوض کے بعد منظور کر لیا گیا۔ بعد ازاں مذکورہ تجویز مجلس عاملہ کے تمام ارکان کو توثیق کیلکیلئے پیش کی گئی، جس کی ارکان نے متفقہ طور پر توثیق کی ۔ ریلیز کے مطابق ارکان مجلس عاملہ نے ملک کی سنگین صورتحال اور اقلیتوں کیلئے تنگ شدہ ماحول پر واضح اور دوٹوک کہا کہ آج ہمارا ملک نہایت نازک دوراہے پر کھڑا ہے ۔ گزشتہ چند برسوں میں حکومتی ترجیحات اور سماجی رویوں میں جو تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں، وہ نہ صرف ایک مخصوص طبقہ بلکہ پورے جمہوری نظام کیلئے تشویش کا باعث ہیں۔
نفرت انگیز بیان بازیوں نے فضا کو مزید مسموم کردیا ہے ، مذہبی اشتعال انگیزی جو کبھی سماج کے حاشیے پر سنائی دیتی تھی، آج وہ قومی سیاست اور ارباب اقتدار کے بیانات کا حصہ ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ منافرت اب دھمکی آمیز سیاست کی شکل اختیار کرچکی ہے ۔ منظم سوچ کے تحت اس عظیم جمہوری ملک کی آئینی حیثیت کو بدلنے کی کوشش کی جارہی ہے جس کی تقویت میں عدالت کے رویے کا بھی بڑا کردار ہے اقلیتوں کی عزت و وقار، عبادت گاہوں ، تعلیم گاہوں ، قبرستانوں اور مزاروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ معمولی بہانوں پر انہدامی کارروائی بلا روک ٹوک جاری ہے ۔ ملک کے مختلف حصوں میں غیر عدالتی قتل، مشتبہ انکاؤنٹرزاور قانون سے ماورا کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے ۔ انہوں نے دعوی کیا کہ حکومت اس کی حوصلہ افزائی بھی کررہی ہے جو شرمناک ہے ۔حکومت اور اس کے کارندے ایسے اقدامات کر رہے ہیں جن کا تصور انگریز حکومت میں نہیں کیا گیا۔ ان حالات نے ملک کے بڑے طبقے میں یہ احساس پیدا کر دیا ہے کہ اس ملک میں” اندرونی نوآبادیاتی نظام ” (Internal Colonialism) قائم کیا جا رہا ہے ، جہاں دباؤ، محرومی اور مسلسل عدمِ تحفظ کا احساس غالب ہوتا جا رہا ہے ۔ کسی بھی مہذب معاشرے میں مذہبی مقامات سے متعلق معاملات کو انصاف، شفافیت اور قانونی تقاضوں کے مطابق نمٹایا جانا چاہیے ۔اسی طرح ووٹنگ کے حق اور انتخابی عمل سے متعلق حالیہ پیش رفت بھی کئی سنگین سوالات کو جنم دے رہی ہے ۔ شہریوں کی شناخت اور شہریت کے نام پر کارروائیوں نے لاکھوں شہریوں میں بے چینی پیدا کردی ۔ یہ تاثر تقویت پا رہا کہ ان اقدامات کا مقصد محض انتخابی فہرستوں کی اصلاح نہیں بلکہ مخصوص طبقات کی سیاسی نمائندگی کو محدود کرنا ہے حالانکہ اگر جمہوریت کے بنیادی ستون یعنی حق رائے دہی پر شکوک و شبہات پیدا ہونے لگیں تو اس کے نتائج دور رس اور خطرناک ہوں گے ۔
مزید تشویش ناک امر یہ ہے کہ ملک کے حقیقی مسائل پس منظر میں چلے گئے ہیں۔ نوجوان روزگار کیلئے پریشان ، کسان مشکلات سے دوچار ہیں، مہنگائی عام آدمی کی زندگی کو دشوار بنا رہی ہے ، جبکہ تعلیم اور صحت کے شعبے بے شمار چیلنجوں کا سامنا کر رہے ہیں ۔ اس کے باوجود قومی توجہ بار بار مذہبی تنازعات اور فرقہ وارانہ مباحث کی طرف موڑ دی جاتی ہے ۔ اگر آج کسی ایک طبقے کے حقوق، شناخت اور وقار کو کمزور کیا جا سکتا ہے تو کل یہی طرزِ عمل دوسرے طبقے کے ساتھ بھی اختیار کیا جا سکتا ہے ۔ لہٰذا یہ مسئلہ صرف ایک کمیونٹی تک محدود نہیں، بلکہ ہندوستان کے مستقبل، جمہوری اقدار اور قانون کی بالادستی سے متعلق ایک اہم قومی مسئلہ ہے ۔اگر ہم نے آج انصاف، مساوات اور آئینی اقدار کے تحفظ کی اجتماعی کوشش نہ کی تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔ لہذا ہم ملک کی سیاسی جماعتوں، ارکانِ پارلیمنٹ، آئینی اداروں ،دانشوروں، سول سوسائٹی اور میڈیا سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ موجودہ حالات کا سنجیدگی سے جائزہ لیں۔ یہ وقت خاموش تماشائی بننے کا نہیں بلکہ آئین کے بنیادی اصولوں، جمہوری اقدار اور قومی یکجہتی کے دفاع کا ہے ۔ ہم کسی تصادم یا نفرت کی سیاست کے قائل نہیں ہیں لیکن ساتھ ہی یہ بھی واضح کرنا ضروری ہے کہ خوف ، دھمکی اور دباؤکے ذریعہ ہمیں آئینی حقوق سے دستبردار نہیں کیا جا سکتا۔ پوری ذمہ داری سے یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ہندستان کا مسلمان کسی خصوصی رعایت یا انفرادی سلوک کا طالب نہیں ۔ اس کا مطالبہ صرف اتنا ہے کہ اسے وہی عزت، وہی تحفظ اور وہی حقوق حاصل ہوں جو اس ملک کے ہر شہری کو آئین نے دیا ہے ۔ لیکن جب کوئی طبقہ مسلسل اپنے وجود، شناخت اور حقوق کے بارے میں فکر مند رہنے لگے تو یہ صرف اس طبقے کا مسئلہ نہیں رہتا بلکہ پورے جمہوری نظام پر سوال بن جاتا ہے ۔لہٰذا ہم حکومت، وزیر اعظم، چیف منسٹرس ایم پیز ، عدلیہ، میڈیا اور سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ نفرت اور تقسیم کے بڑھتے رجحان کو محض سیاسی مسئلہ سمجھ کر نظر انداز نہ کریں۔ یہ ملک کی سماجی ہم آہنگی، قومی اتحاد اور آئینی مستقبل کا معاملہ ہے ۔







