مدھیہ پردیش کے بیتول میں ٹرین میں سیٹ کے معاملے پر مسافروں کے درمیان شروع ہوا تنازع قتل کی واردات میں بدل گیا۔ اتوار کو دیر شب بوردہی ریلوے اسٹیشن پر پینچویلی ایکسپریس میں خونریز جھڑپ ہوئی۔ اس حملے میں چھندواڑہ کے رہنے والے 25 سال کے نوجوان علی خان کو پیٹ پیٹ کر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر لاش ملنے کے بعد ریلوے پروٹیکشن پولیس نے نامعلوم حملہ آوروں کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔ تمام ملزمین فی الحال فرار ہیں اور پولیس ان کی تلاش کر رہی ہے۔
متوفی علی خان کے دوست اور چشم دید جینت وشوکرما نے واردات کی پوری کہانی بیان کی۔ انہوں نے کہا کہ ٹرین میں سیٹ کو لے کر شروع معمولی بحث اتنی بڑی واردات میں بدل جائے گی، اس کا کسی کو اندازہ بھی نہیں تھا۔ چشم دید نے بتایا کہ ہم 4 لوگ تھے اور سبھی پینچویلی ایکسپریس سے بھوپال جا رہے تھے۔ پراسیا اسٹیشن پر ٹرین میں ایک نامعلوم شخص سوار ہوا۔ وہاں سیٹ کو لے کر ہمارے درمیان اس کے ساتھ بحث ہو گئی۔ اس کے بعد اس شخص نے بوردہی اسٹیشن پر اپنے 12-10 ساتھیوں کو پہلے سے ہی بلا لیا۔
وشوکرما نے مزید بتایا کہ جیسے ہی ٹرین بوردہی اسٹیشن پر رُکی تو وہاں پہلے سے موجود لوگوں نے علی خان کو زبردستی ٹرین سے نیچے اتارا اور بے رحمی سے پیٹنا شروع کر دیا۔ عینی شاہد کا کہنا تھا کہ حملہ اتنا خطرناک تھا کہ ہم لوگ کسی طرح اپنی جان بچا کر وہاں سے بھاگنے میں کامیاب ہوئے۔ عینی شاہدین کے مطابق پراسیا اسٹیشن پر ہوئی ہنگامہ آرائی کے بعد ایک بار تو صورتحال پرامن ہو گئی، تاہم دوسرے فریق کے دل میں رنجش باقی تھی۔ گروپ نے بوردہی اسٹیشن پر علی خان کو گھیر کر لات، گھونسوں اور ہتھیاروں سے بری طرح زد و کوب کیا۔ شدید زخموں کی وجہ سے علی خان نے پلیٹ فارم پر ہی دم توڑ دیا۔







