نیشنل پولیس نے بتایا کہ روسی ڈرون نے شمال مشرقی سمی علاقے میں ایک 69 سالہ خاتون اور ایک 77 سالہ شخص کی بھی جان لے لی۔ خرکیف کے میئر ایہور تیریخوف نے کہا کہ شمال مشرقی شہر میں دن کے وقت ہوئے روسی حملے میں ایک شخص کی موت ہوگئی اور 5 دیگر زخمی ہو گئے۔ حکام نے بتایا کہ یوکرین کے کم سے کم 6 دیگر علاقوں میں بھی مہلک حملے ہوئے۔ اس بارے میں فوری طور پر زیادہ معلومات دستیاب نہیں ہو پائی ہیں۔
گرڈ آپریٹر ’یوکرینرگو‘ نے بتایا کہ پیر کو روسی حملوں کے بعد یوکرین کے 8 علاقوں میں کچھ صارفین کی بجلی منقطع ہو گئی۔ اس کے ساتھ ہی گرمی بڑھنے کی وجہ سے لوگوں نے ائیر کنڈیشنر چلائے جس سے بجلی کا استعمال بھی بڑھ گیا۔ اس دوران صدر زیلنسکی نے یورپ سے روسی بیلسٹک میزائلوں کو روکنے کے لیے فضائی دفاعی نظام کو مزید بہتر بنانے کی اپنی اپیل کا اعادہ کیا۔ زیلنسکی نے کہا کہ لوگوں کو ایسے خوفناک حملوں سے بچانے کی ضرورت ہے۔ سب سے ضروری بات یہ ہے کہ ہمارے پاس اینٹی بیلسٹک ہوں۔ یہ بہت ضروری ہے کہ یورپ اپنا خود کا اینٹی بیلسٹک دفاعی نظام اور میزائلیں تیار کرنے میں پوری طرح مصروف رہے۔
مغربی حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ مہینوں میں جنگ میں بڑی تبدیلی آئی ہے۔ یوکرین کے بڑھتے ہوئے ڈرون حملوں کے باعث روس اور روس کے زیر قبضہ علاقوں میں ایندھن کی قلت پیدا ہو گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق ان حملوں نے مشرقی اور جنوبی یوکرین میں فرنٹ لائن پر تعینات روسی افواج کی سپلائی لائنز کو کمزور کر دیا ہے جس سے ان کی پیش قدمی سست ہو گئی ہے۔ یوکرین کی جدید ڈرون انجینئرنگ نے اسے برتری دلائی ہے اور اسے اس ٹیکنالوجی کے فوجی استعمال میں عالمی لیڈر بنا دیا ہے۔ پہلے غیر ملکی فوجی مدد کی فریاد کرنے والا یوکرین اب اتحادی ممالک کی مدد کر رہا ہے۔
اس سے قبل روسی صدر ولادیمیر پوتن نے اتوار کے روز اعتراف کیا کہ یوکرین کے روسی تیل کی تنصیبات پر طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرون حملوں کی وجہ سے ایندھن کی قلت پیدا ہوئی ہے۔ اس بحران کی وجہ سے لوگوں میں غصہ اور مایوسی پھیل گئی ہے، جس سے وہ گیس اسٹیشنوں پر لمبی قطاروں میں انتظار کرنے پر مجبور ہیں لیکن پوتن نے حملے کو ختم کرنے کے لیے کوئی رعایت دینے سے انکار کر دیا اور زور دے کر کہا جسے انہوں نے عارضی جھٹکا بتایا، اس کے باوجود روس بالآخر جنگ جیتے گا۔







