کانگریس نے اتوار کو گھریلو گیس کی قیمتوں میں اضافے کو لے کر مودی حکومت پر جم کر حملہ بولا ہے۔ کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’گھریلو ایل پی جی کی قیمتوں میں لگی آگ کی لپٹیں عوام کے باورچی خانے کو جھلسانے پر آمادہ ہیں!! مودی حکومت نے گزشتہ 4 مہینوں میں گھریلو ایل پی جی سلنڈر کی قیمتوں میں 89 روپے کا اضافہ کیا ہے۔
کانگریس صدر نے اپنی ’ایکس‘ پوسٹ میں لکھا کہ ہمارے 3 سوال ہیں۔ پہلا سوال انہوں نے یہ کیا کہ ’’پارلیمنٹ میں مودی جی نے بڑے بڑے دعوے کیے تھے کہ وہ مغربی ایشیا کی جنگ کے پیش نظر 41 ممالک سے ایندھن کی فراہمی کے ذرائع کو متنوع بنا رہے ہیں۔ اس کا کیا ہوا؟ دیہی علاقوں میں آج بھی ایل پی جی کی قلت کیوں ہے؟‘‘ دوسرا سوال یہ کیا کہ ’’26-2025 میں اجولا یوجنا کے تحت 5.56 کروڑ خاندانوں نے صرف ایک بار یا ایک بار بھی ایل پی جی سلنڈر ری فل نہیں کروایا۔ ان میں سے 3.30 کروڑ خاندان ایسے ہیں جنہوں نے ایک بھی سلنڈر ری فل نہیں کروایا۔ یہ تو مغربی ایشیا کے بحران سے پہلے کی بات ہے۔ کیا یہ مودی حکومت کی لوٹ کھسوٹ کا نتیجہ نہیں ہے؟
تیسرا اور آخری سوال ملکارجن کھڑگے نے یہ کیا کہ ’’مودی جی اور بی جے پی کے لیڈران یو پی اے حکومت کے دوران مہنگائی کے خلاف خوب شور مچاتے تھے۔ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ مودی حکومت کے 12 برسوں میں گھریلو ایل پی جی سلنڈر کی قیمت میں 530 روپے کا اضافہ ہوا ہے؟ اب بی جے پی کے لیڈران سڑکوں پر سلنڈر لے کر کیوں نہیں بیٹھ رہے ہیں؟
