امریکہ اور ایران کے درمیان سوئٹزرلینڈ میں پہلے دور کی بات چیت ختم ہو چکی ہے۔ اس مذاکراتی عمل میں دونوں فریقوں کی جانب سے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دینے پر اتفاق ہوا ہے۔ اس معاملے پر پاکستان اور قطر کی جانب سے مشترکہ بیان جاری کیا گیا ہے۔ اس تعلق سے ایران کا پہلا رد عمل بھی سامنے آ گیا ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا کہ پاکستان اور قطر کی مسلسل ثالثی کے باعث لبنان جنگ کے خاتمے کی سمت میں بڑی پیش رفت ہوئی ہے۔ ایران کے تیل اور پیٹروکیمیکل برآمدات پر عائد پابندیاں ہٹا دی گئی ہیں۔ آبنائے ہرمز میں ناکہ بندی ختم کر دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ منجمد کی گئی بعض اثاثہ جات بھی جاری کر دیے گئے ہیں اور بڑے پیمانے پر تعمیر نو اور ترقیاتی منصوبہ شروع کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید لکھا کہ سب سے بڑا امتحان لبنان میں ’ڈی کنفلیکشن سیل‘ ہے۔
پاکستان اور قطر کے مشترکہ بیان کے مطابق لیک لوسرن سمٹ مثبت اور تعمیری ماحول میں منعقد ہوئی۔ اس میں آئندہ تکنیکی مذاکرات کے لیے ایک نظام قائم کرنے سمیت کئی حوصلہ افزا پیش رفت ہوئی ہیں۔ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کی بنیاد پر تمام فریق ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دینے پر متفق ہوئے ہیں، جو ثالثی کے عمل کی سیاسی نگرانی کرے گی۔ مرکزی مذاکرات کار باقاعدگی سے اعلیٰ سطحی کمیٹی کو رپورٹ پیش کریں گے اور جوہری امور، پابندیوں اور مفاہمتی یادداشت کے مؤثر نفاذ کے لیے نگرانی اور تنازعات کے حل سے متعلق ورکنگ گروپس کی قیادت کریں گے۔







