وزیر اعظم نریندر مودی نے آج تاریخی لال قلعہ کی فصیل سے ملک کے نام خطاب میں کئی اہم باتیں سامنے رکھیں۔ انھوں نے اپنی حکومت کی حصولیابیوں کے ساتھ ساتھ اپنے آئندہ کے عزائم کا خاص طور سے ذکر کیا۔ موجودہ حالات اور درپیش چیلنجز سے متعلق بھی پی ایم مودی نے واضح لفظوں میں اپنی باتیں ملک کے سامنے رکھیں۔ آئیے ذیل میں ان کی تقریر پر نظر ڈالتے ہیں۔
ملک نئے عزم کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ ملک نئے خوابوں کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ دنیا ہمارے تئیں اپنا نظریہ بدلنے پر مجبور ہو گئی ہے۔ 2047 تک ترقی یافتہ ہندوستان بنا کر رہیں گے۔
دوسرے ممالک پر انحصار کر کے نہیں جینا ہے۔ اپنے مفادات کا تحفظ ہمیں خود کرنا ہوگا۔ ہم خود کفیل ہندوستان کی جانب مضبوطی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ خود کفیل ہندوستان ہمیں ترقی یافتہ ہندوستان کی طرف لے جائے گا۔ ہمیں اپنی صلاحیتوں کو بڑھانا ہوگا۔
سیمی کنڈکٹر، اہم معدنیات اور توانائی کی سلامتی میں مہارت حاصل کریں گے۔ ملک میں 3 سیمی کنڈکٹر پلانٹ شروع ہو چکے ہیں۔ آنے والے وقت میں 5-4 مزید پلانٹ شروع ہوں گے۔ اب توانائی کے بغیر نئی دنیا کو چلانا مشکل ہوگا۔ توانائی کی سلامتی اس وقت دنیا کی ایک اہم ضرورت ہے۔ 2047 تک 100 گیگا واٹ جوہری توانائی کا ہدف ہے۔
گزشتہ 12 سال میں ملک نے ترقی کی رفتار پکڑی۔ ہم نے تمام شعبوں میں کام کیا۔ ہر سال 6 گنا رفتار سے گیس کنکشن دیے۔ جدید بنیادی ڈھانچے کے لیے میٹرو کا توسیع کیا۔ 12 سال میں دفاعی پیداوار 4 گنا بڑھ گئی۔
ہندوستان کے پاس مستحکم اور مضبوط حکومت ہے۔ ہندوستان کی ہر مصنوعات کو پوری دنیا تک پہنچانا ہے۔ دنیا کے 40 ممالک کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدہ ہے۔ اگر صحیح سمت میں نہیں چلے ہوتے تو مقابلہ کیسے کرتے۔ ہمارے پاس سمت دکھانے والا آئین ہے۔ دنیا کو اچھی اور سستی مصنوعات دینی ہوں گی۔ 2047 کا ہدف مضبوط بنیاد پر کھڑا ہے۔ سوچ بدلنی ہوگی۔ جو کام 5 دہائیوں میں نہیں ہوئے، وہ 5 سال میں کرنے ہوں گے۔
2030 کا اولمپک ہندوستان میں ہو رہا ہے۔ چاہتا ہوں کہ 2036 کا بھی ہندوستان میں ہی ہو۔ گاؤں گاؤں، شہر شہر سے ٹیلنٹ تلاش کریں گے۔ ملک کی صلاحیتوں کو تربیت دیں گے۔ کھیل کے شعبہ میں ٹیلنٹ ہنٹ کا انعقاد کریں گے۔
ہندوستان کا بھی ایک بینک ٹاپ-5 بینکوں میں ہونا چاہیے۔ وقت کی طلب ہے کہ دنیا کی 5 بڑی فارما کمپنیوں میں ہندوستان کی بھی 2-1 فارما کمپنیوں کا نام گونجنا چاہیے۔ کیا یہ وقت کا مطالبہ نہیں ہے کہ گلوبل لیڈرشپ اب ہمارے ہاتھ میں ہونی چاہیے؟ صلاحیت ہے، ہماری طویل تاریخ بھی ہے، زبانوں پر ہماری گرفت بھی ہے، ہمیں پوری دنیا میں پہنچنا چاہیے۔
ایک سال میں ایک کروڑ نوجوانوں کو اے آئی ہنر کی ٹریننگ دی جائے گی۔ نوجوانوں کے لیے سستا ڈاٹا دستیاب کرایا جائے گا۔ نوجوانوں کے لیے مفت آن لائن کوچنگ کا انتظام کیا جائے گا۔ غریب، متوسط طبقات کے بچوں کے لیے کوچنگ کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ نوجوانوں کو امتحان کے لیے مفت کوچنگ دی جائے گی۔
یوریا مہنگی ہوئی لیکن اس کا بوجھ عوام پر نہیں پڑنے دیا۔ مہنگائی کا بوجھ حکومت نے اپنے کندھوں پر اٹھایا۔ ہم کسانوں کو یوریا 300 روپے میں دیتے ہیں۔ دنیا میں یوریا 3000 روپے میں اور ہندوستان میں 300 روپے میں ہے۔ ہندوستان میں ڈی اے پی 1350 روپے میں مل رہی ہے۔
10 سال میں ملک نے کئی بحرانوں کا سامنا کیا۔ ملک کو تشویش میں مبتلا رکھنے میں کچھ لوگوں کو مزہ آتا ہے۔ جنگ کے دوران کچھ لوگوں نے افواہیں پھیلائیں۔ لوگوں نے کہا کہ تیل نہیں ملے گا۔ گیس نہیں ملے گی۔ ہندوستان کو ڈرانے میں کچھ لوگوں کو مزہ آیا۔
ہم نے 99 فیصد ’نو گو ایریا‘ کو ’گو اہیڈ ایریا‘ بنا دیا۔ ’سمندر منتھن‘ منصوبے کے لیے 85 ہزار کروڑ روپے دیے۔ 2014 سے پہلے ملک کے 70 شہروں میں پائپ گیس تھی۔ اب 700 شہروں میں پائپ کے ذریعہ گیس پہنچ رہی ہے۔
90 سال میں ریلوے کی بجلی کاری ہوئی، لیکن 10 سال میں ہم نے 70 فیصد بجلی کاری کا کام کیا۔ ملک میں پہلی بار ہائیڈروجن سے ٹرین چلی۔
ناری شکتی وندن ایکٹ پر سیاست ہوئی۔ میری سب سے اپیل یہی ہے کہ خواتین کو 33 فیصد حصہ داری ملے۔ اس میں سب ساتھ دیں۔ سیاسی پارٹیوں سے اپیل ہے کہ وہ خواتین کے لیے آگے آئیں۔
نکسلزم، ماؤازم نے نوجوانوں کو برباد کیا۔ نکسلزم، ماؤزم سے آئین کی دھجیاں اڑیں۔ لیکن اب نکسلزم و ماؤازم تشدد دم توڑ چکا ہے۔ ذہنی نکسل موقع کی تلاش میں ہیں۔ ہمیں نکسلزم کے چیلنج سے محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔
ترقی یافتہ ہندوستان کے لیے نئی دھارا چاہیے، ’سپت دھارا‘۔ چھوٹے پرزوں سے لے کر بڑی مصنوعات بنانی ہیں۔ لاگت، معیار اور پیمانے پر توجہ دینی ہوگی۔







