نئی دہلی: جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر ملک معتسم خان نے خواتین کے ریزرویشن بل کو حلقہ بندی اور دیگر مجوزہ قانون سازی کے ساتھ جوڑے جانے پر اپنی سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ خواتین کے لیے ریزرویشن ایک جائز مطالبہ ہے، لیکن اس کی موجودہ شکل کئی حوالوں سےسنگین سوالات کھڑے کرتی ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ملک معتصم خان نے کہا کہ جماعت اسلامی ہند پارلیمنٹ میں خواتین کے ریزرویشن کی مکمل حمایت کرتی ہے، کیونکہ فیصلہ سازی کے عمل میں خواتین کی شرکت ایک اہم اور ضروری قدم ہے۔ تاہم اسے حلقہ بندی یا نشستوں سے جوڑے بغیر لوک سبھا کی موجودہ 543 نشستوں کے اندر ہی نافذ کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بھی نہایت ضروری ہے کہ خواتین کے ریزرویشن کے اندر ایس سی ، ایس ٹی ، او بی سی اور دیگر مذہبی اقلیتوں کے لیے ذیلی کوٹا یقینی بنایا جائے تاکہ نمائندگی کے فوائد سماج کے تمام طبقوں تک پہنچ سکیں۔ ان طبقات کی شمولیت کے بغیر منصفانہ نمائندگی کا مقصد ادھورا رہے گا۔
ملک معتصم خان نے مزید کہا کہ ان تجاویز کو جس طریقے اور موقع پر پیش کیا گیا ہے وہ سنگین خدشات کو جنم دیتا ہے۔ ریاستی انتخابات کے دوران بغیر صلاح مشورہ کئے اس نوعیت کی بڑی تبدیلیاں ان شبہات کو تقویت دیتی ہیں کہ یہ اقدام حقیقی اصلاح کے بجائے سیاسی محرکات پر مبنی ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت کے فیصلے میں عوام کو اعتماد میں لینے کی کوشش نہیں کی گئی ، جو کہ کسی بھی قانون سازی کے لیے نہایت ضروری ہے۔ خواتین کے ریزرویشن کو حلقہ بندی سے جوڑنا نہ صرف غیر ضروری ہے بلکہ پیچیدگیاں بھی پیدا کرتا ہے۔خواتین کے لیے ریزرویشن کو موجودہ پارلیمانی ڈھانچے کے تحت آسانی سے نافذ کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے فیصلے حکومت کی ترجیحات اور نیت کے بارے میں سنگین سوالات کھڑے کرتے ہیں۔جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر نے واضح کیا کہ مجوزہ حلقہ بندی کا عمل خود بھی سنگین خدشات پیدا کرتا ہے۔ صرف آبادی کی بنیاد پر حلقہ بندی ملک کے وفاقی توازن کو متاثر کر سکتی ہے، جس سے مختلف خطوں کے درمیان علاقائی عدم توازن پیدا ہو سکتا ہے۔ اس طرح کا عمل جلد بازی میں نہیں ہونا چاہیے بلکہ تمام ریاستوں، سیاسی پارٹیوں اور سول سوسائٹی کے اتفاق رائے سے ہی آگے بڑھایا جانا چاہیے۔ ملک معتصم خان نے کہا کہ مزید تشویش ناک بات یہ ہے کہ مجوزہ حلقہ بندی میں ہیرا پھیری کا قوی امکان ہے۔اس طرح کے شواہد آسام اور جموں و کشمیر میں دیکھے گئے ہیں ۔ ان ریاستوں میں حلقوں کے حدود کو اس انداز میں تبدیل کرنے کی اطلاعات ہیں جو بعض طبقات کی نمائندگی کو متاثر کرتی ہیں اور جمہوری انصاف کو کمزور کرتی ہیں۔
ملک معتصم خان نے کہا کہ ایک اور اہم مسئلہ مجوزہ فریم ورک میں ادارہ جاتی تحفظات کی کمزوری کا ہے۔حلقہ بندی کمیشن کی تشکیل میں مناسب توازن و احتساب کے فقدان اور مؤثر عدالتی نگرانی کی عدم موجودگی سے اختیارات کا بیجا استعمال ہو سکتا ہے ۔جس کے طویل مدتی اثرات ملک کے جمہوری ڈھانچے پر مرتب ہو سکتے ہیں۔اس لیے ضروری ہے کہ پورا عمل شفاف، مشاورتی اور آئینی تحفظات کے دائرے میں ہو تاکہ عوام کا اعتماد برقرار رہے۔اگرچہ خواتین کا ریزرویشن ایک ضروری اور خوش آئند قدم ہے، لیکن اسے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے اور نہ ہی اسے ایسے اقدامات کے ساتھ جوڑا جانا چاہیے جو جمہوری اصولوں کو کمزور کر سکتے ہوں۔
اپنے بیان کے آخر میں ملک معتصم خان نے کہا کہ چونکہ آئین (ایک سو اکتیسواں ترمیمی) بل لوک سبھا میں مسترد ہو چکا ہے، جماعت اسلامی ہند حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ خواتین کے ریزرویشن کو حلقہ بندی کے عمل سے الگ کیا جائے، اسے موجودہ ڈھانچے میں مناسب ذیلی کوٹوں کے ساتھ نافذ کیا جائے اور انتخابی ڈھانچے میں کسی بھی تبدیلی کو مکمل شفاف، مشاورتی اور آئینی کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے انجام دیا جائے تاکہ معاشرے کے تمام طبقات کے حقوق اور نمائندگی کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔







