نئی دہلی: ملک کی پارلیمنٹ میں خواتین ریزرویشن اور حدبندی بل پر جاری شدید بحث کے درمیان مرکزی حکومت نے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے خواتین کو 33 فیصد ریزرویشن فراہم کرنے والے آئینی قانون کو نافذ کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ مرکزی قانون وزارت کے مطابق آئین کی 106ویں ترمیم کے تحت منظور شدہ یہ قانون 16 اپریل 2026 سے مؤثر ہو گیا ہے، تاہم اس کے فوری عملی اطلاق پر اب بھی سوالات برقرار ہیں۔
سرکاری نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ اس قانون کی دفعات مقررہ تاریخ سے نافذ ہوں گی، لیکن اس میں یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ پارلیمنٹ میں اسی موضوع پر بحث کے دوران ہی اس کے نفاذ کا اعلان کیوں کیا گیا۔ سرکاری ذرائع نے اسے محض “تکنیکی وجوہات” قرار دیا ہے، مگر تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں، جس کے باعث اپوزیشن نے اس پر سوال اٹھانے شروع کر دیے ہیں۔
یہ قانون، جسے 2023 میں “ناری شکتی وندن ایکٹ” کے طور پر منظور کیا گیا تھا، لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کے لیے ایک تہائی نشستیں مخصوص کرنے کی گنجائش فراہم کرتا ہے۔ تاہم اس کے نفاذ کو آئندہ مردم شماری اور اس کے بعد ہونے والی حدبندی کی کارروائی سے مشروط کیا گیا ہے۔ اسی وجہ سے موجودہ لوک سبھا میں خواتین کو اس ریزرویشن کا فوری فائدہ نہیں مل سکے گا۔
پارلیمنٹ میں جاری بحث کے دوران مرکزی وزیر برائے پارلیمانی امور کرن رجیجو نے اعلان کیا کہ اس معاملے پر ایوان میں ووٹنگ شام چار بجے ہوگی اور حکومت کو مکمل امید ہے کہ اسے وسیع حمایت حاصل ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے تمام جماعتوں سے اس قانون کی حمایت کی اپیل کی ہے اور اس معاملے پر کسی ابہام کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔
ادھر اپوزیشن نے حکومت کے ارادوں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ اس قانون کے نفاذ کو مستقبل کی مردم شماری اور حدبندی سے جوڑنا دراصل سیاسی حکمت عملی کا حصہ ہے۔کانگریس رہنما پرینکا گاندھی نے کہا کہ اگرچہ ان کی پارٹی خواتین ریزرویشن کی حمایت کرتی ہے، لیکن موجودہ خاکے میں کئی اہم نکات کو نظر انداز کیا گیا ہے، خاص طور پر نئی مردم شماری کا ذکر شامل نہ ہونا تشویش کا باعث ہے۔
حکومت کا موقف ہے کہ وہ اس قانون کا سیاسی فائدہ نہیں اٹھانا چاہتی اور یہ قدم خواتین کو بااختیار بنانے کی سمت میں ایک تاریخی پیش رفت ہے۔ دوسری جانب اپوزیشن کا کہنا ہے کہ وقت اور طریقہ کار پر شفافیت ضروری ہے تاکہ اس اہم قانون پر کسی قسم کے شبہات باقی نہ رہیں۔
